زندگی یوں تھی کہ جینے کا بہانہ تو تھا
ہم فقط زیبِ حکایت تھے فسانہ تو تھا
ہم نے جس جس کو بھی چاہا تیرے ہجراں میں وہ لوگ
آتے جاتے ہوئے موسم تھے زمانہ تو تھا
اب کے کچھ دل ہی نہ مانہ کہ پلٹ کر آتے
ورنہ ہم در بدروں کا ٹھکانہ تو تھا
یارواغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فراز
اور سب دیکھ رہے تھے کہ نشانہ تو تھا
Post By: Wajid Imran Pirmahal
شجر بن کے زندگی کو گزارا جائے
اِک قرض یوں بھی تو اُتارا جائے
انا کہتی ہے رُخ موڑ کے چل دوں
دل کہتا ہے اُسے پکارا جائے
اِک بار تو کھیلیں گے بازئ عشق
چاہے ہو اِس میں خسارہ جائے
جہاں سے ملتا ہے بن مانگے سب کو واجد
کیوں نہ پھر اُس در پہ کوئی دوبارہ جائے
شاعر : واجد عمران پیرمحل
وہ شخص جب سے میری تمنا نہیں رکھتا
دل کسی اور کو چاہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا
وہ کیا بچھڑا کہ ہر کوئی پوچھتا ہے اُسی کا
یوں لگتا ہے واجد میں جیسے چہرہ نہیں رکھتا
شاعر: واجد عمران پیرمحل
gorme -ulfat ki saza datain ,hain tare -share k loge . muj ko sholo pe jalty hain tare share k loge kase ayon tary share me mom ka badan le kr ,labon se aag barsate hain tare share k loge.