Guest Author's picture

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

Your rating: None Average: 3.8 (4 votes)
Guest Author's picture

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

بھٹکا ہوا جنت میں مکیں ہوتا ہے

کیسے مانوں کہ ترے ساتھ تھا وہ آج
وہ تو ہر وقت مرے پاس یہیں ہوتا ہے

زمانے میں کوئی اس کا کلیہ ہی نہیں
بھا جائے جو دل کو وہ حسیں ہوتا ہے

مسکان بھی رہتی ہے سدا ہونٹوں پہ اور
ہر وقت ہی دکھ میرا قریں ہوتا ہے

بدلتے ہی خود مجھے آکر وہ ملے گا
دو جمع دو پانچ کہیں ہوتا ہے

اسی وقت ہی ہارا جو بلبل نے کہا یہ
گل دیکھ مرا خاک نشیں ہوتا ہے

حسن مٹی میں ملتا ہے سنا ہے یہ عمر
جانے اور کیا کیازیرِ زمیں ہوتا ہے

Your rating: None Average: 4.4 (10 votes)
Guest Author's picture

hum pathron ko mom banane k shouq mein, kia kia mohabbaton ka zian jhelte rahe,ye jante hue bhi k hum haar jaenge ek zid si hogayee thi jua khelte rahe

Your rating: None Average: 3.5 (8 votes)
Guest Author's picture

میرے ہاتھوں پہ مصائب نے چلا دی گولی/RAFIQ SANDEELVI

میرے ہاتھوں پہ مصائب نے چلا دی گولی
ورنہ اونچے تیری یادوں کے علم کرنے تھے
کاش کہ وقت مجھے تھوڑی سی مہلت دیتا
میں نے کچھ رنگ تری ذات میں ضم کرنے تھے

Your rating: None Average: 4.5 (40 votes)
Guest Author's picture

نہ بوجھ یوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ -- غزلِ شفیق خلش

غزلِ

شفیق خلش

نہ بوجھ یوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ
دُکھوں کوگوشوں میں اِس کے نہ تُو سنبھال کے رکھ

ہرایک شے پہ تو قدرت نہیں ہے انساں کو
شکستِ دل کوبصورت نہ اک وبال کے رکھ

گِراں ہیں رات کےآثار، ذہن دل کے لئے
سُہانے یاد کے لمحے ذرا نکال کے رکھ

میں جانتا ہوں نہیں دسترس میں وہ میری
ہَوا مہک سے نہ اُس کی یہ دل اُچھال کے رکھ

بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرتوں کے خَلِش
خیال وخواب اُسی حُسنِ بے مثال کے رکھ

شفیق خلش

Your rating: None Average: 3.7 (3 votes)
Guest Author's picture

بنتی اگر جو بات تو کیا بات تھی جناب

غزل

شفیق خلش

کِس کِس ادا سے اُن سے نہ تھی بات کی جناب
بنتی اگر جو بات تو کیا بات تھی جناب

ہو کر جُدا نہ دے ہے تکلّف مِزاج سے
اب تک وہ گفتگو میں کریں آپ، جی، جناب

بارآور آپ پر نہ ہوں کیوں کوششیں مِری
کب تک یہ بے ثمر سی رہے آشتی جناب

جاتے نہ کیسے اُن کے بُلانے پہ ہم بھلا
موضوعِ گفتگو پہ کہا عاشقی جناب

کب تھا میں اِضطراب وغمِ ہجْر آشنا
جب تک کہ آپ سے تھی فقط دوستی جناب

جانے کہاں گئی ہے، خوشی چھوڑ کر مجھے
کل تک تو ہر قدم وہ مِرے ساتھ تھی جناب

للچائے کیوں نہ جی ہر اک اچھی سی چیز پر
شامل ہے یہ سرشت میں، ہوں آدمی جناب

پُختہ یقین ہے کہ یہ جب تک جہان ہے
گونجے گی کوبہ کو یہ مِری نغمگی جناب

احساس، رنجِ مرگ پہ غالب ہے یہ خلش
زندہ اگر نہ میں تو مِری شاعری جناب

شفیق خلش

Your rating: None Average: 4.3 (3 votes)
Guest Author's picture

مِسمار کرنے آئی مِری راحتوں کے خواب

غزل
شفیق خلش

مِسمار کرنے آئی مِری راحتوں کے خواب
تعبیر وَسوَسے لئے سب چاہتوں کے خواب

دل کے یقینِ وصل کو پُختہ کریں کچھ اور
ہرشب ہی ولوَلوں سے بھرے ہمّتوں کے خواب

پَژمُردہ دل تُلا ہے مِٹانے کو ذہن سے
اچّھی بُری سبھی وہ تِری عادتوں کے خواب

کیسے کریں کنارا، کہ پیشِ نظر رہیں
تکمیلِ آرزو سے جُڑے عظمتوں کے خواب

ہجرت سِتم نہ لوگوں کے ہم سے چُھڑا سکی
آئیں یہاں اب اُن کی اُنہی تہمتوں کے خواب

یادش بخیر! اُس نے ہی دِکھلائے تھے ہمیں
رنگوں بھرے گُلوں سے لدے پربتوں کے خواب

دل کو لُبھائے رکھتے ہیں پردیس میں خلش
نسبت سے اُن کی یاد ہمیں، مُدّتوں کے خواب

شفیق خلش

Your rating: None Average: 3 (2 votes)
Guest Author's picture

جب جب کِئے سِتم، تو رعایت کبھی نہ کی

غزلِ
شفیق خلش

جب جب کِئے سِتم، تو رعایت کبھی نہ کی
کیسے کہیں کہ اُس نے نہایت کبھی نہ کی

کیا ہو گِلہ سِتم میں رعایت کبھی نہ کی
سچ پُوچھیےتو ہم نے شکایت کبھی نہ کی

چاہت ہمارے خُوں میں سدا موجْزن رہی
صد شُکر نفرتوں نے سرایت کبھی نہ کی

شاید ہمارے صبْر سے وہ ہار مان لیں
یہ سوچ کر ہی ہم نے شکایت کبھی نہ کی

اُس چشمِ مے نواز و فسُوں ساز نے ہمیں
اک دیدِ التفات عنایت کبھی نہ کی

ہوگا غلط ، اگر یہ کہیں کارِعشق میں
عقل و ہُنر نے دل کی حمایت کبھی نہ کی

بھرتا ہُوں دَم میں اب بھی اُسی دلنواز کا
ترسیلِ غم میں جس نے کفایت کبھی نہ کی

اِس جُرمِ عاشقی میں برابر کے ہو شریک
تم بھی خلش، کہ دل کو ہدایت کبھی نہ کی

شفیق خلش

Your rating: None Average: 4 (3 votes)
Syndicate content