Skip to Content
Our mission is to provide the largest repository of free Urdu Poetry

ایک شعر

آسمانوں سے فرشتے جو اُتارے جائیں
وہ بھی اِس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں
Post By: Wajid Imran Pirmahal

اپنی محبت کا صلہ نہیں مانگتا

اپنی محبت کا صلہ نہیں مانگتا
میں تمام عمر کا گلہ نہیں مانگتا

اِک تم بن جائو ہمسفر میرے
میں رہبر و قافلہ نہیں مانگتا

یوں تو میرے لب پہ کوئی دُعا نہیں آتی

قطعہ

کون سودوزیاں کی دنیا میں
دردِ غربت کا ساتھ دیتا ہے
جب مقابل ہوں عشق اوردولت
حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے
Post By: Wajid Imran Pirmahal

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اِک نظر اِدھر بھی تیرا جاتا کیا ہے
میری رسوائی میں وہ بھی ہیں برابر کے شریک
میرے قصے میرے یاروں کو سناتا کیا ہے
میں تیرا کچھ بھی نہیں لگتا مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا کیا ہے
Post By: Wajid Imran Pirmahal

شعلہ سامان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے

شعلہ سامان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہائے انسان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
حسن بت ساز کھلونوں کا پرانا خالق
عشق انجان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہم بہرحال حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں
دل ہے نادان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
جو تیرے غم کی ندامت نہ اُٹھا سکتا ہو
وہ ہشیمان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
موجِ گریہ سے لپٹ جاتے ہیں وعدے اُن کے
غم کا طوفان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
چشمِِ ساغر کو نہیں خواہشِ جنت واعظ
تیرا ایمان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
Post BY: Wajid Imran Pirmahal

Syndicate content