اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے
اِک نظر اِدھر بھی تیرا جاتا کیا ہے
میری رسوائی میں وہ بھی ہیں برابر کے شریک
میرے قصے میرے یاروں کو سناتا کیا ہے
میں تیرا کچھ بھی نہیں لگتا مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا کیا ہے
Post By: Wajid Imran Pirmahal
شعلہ سامان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہائے انسان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
حسن بت ساز کھلونوں کا پرانا خالق
عشق انجان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہم بہرحال حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں
دل ہے نادان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
جو تیرے غم کی ندامت نہ اُٹھا سکتا ہو
وہ ہشیمان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
موجِ گریہ سے لپٹ جاتے ہیں وعدے اُن کے
غم کا طوفان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
چشمِِ ساغر کو نہیں خواہشِ جنت واعظ
تیرا ایمان ، کھلونوں سے بہل جاتا ہے
Post BY: Wajid Imran Pirmahal