پس ِ وجد سایہء مہ نہیں مرا جسم تھا/rafiq sandeelvi

Verses

پس ِ وجد سایہء مہ نہیں مرا جسم تھا
کسی خانقاہ کی سر زمیں مرا جسم تھا

کوئی دیکھتا مرے خال و خد کی برہنگی
شب ِ یک نفس میں بڑا حسیں مرا جسم تھا

مرے جسم میں بھی کہیں کہیں مری روح تھی
مری روح میں بھی کہیں کہیں مرا جسم تھا

کوئی ایک رنگِ وجود ہو تو یقین ہو
کبھی قرمزی ،کبھی نیلمیںمرا جسم تھا

مگر ایک رات کا ذکر ہےکہ مدار میں
کسی روشنی کے بہت قریں مرا جسم تھا
رفیق سندیلوی

مجھ پہ زمیں کے سارے خطے تنگ رہے/rafiq sandeelvi

Verses

مجھ پہ زمیں کے سارے خطے تنگ رہے
پانی اور ستارے میرے سنگ رہے

میں مٹی میں دفن ہوا تو میرے ساتھ
چار طبق،دو آنکھیں ،ساتوں رنگ رہے

پہلے ہمارا سرد کُرے پر سنگم ہو
ارض و سما میں صدیوں تک پھر جنگ رہے

یونہی ترنم ابھرے مینہ کی بوندوں سے
یونہی جسم کے اعضا میں آہنگ رہے

سطح ِ آب سے کھینچ لی چادر کائی کی
لوہے سے ہم لوگ کھرچ کر زنگ رہے

رفیق سندیلوی

اسیر ِ خاک ہوں لیکن ہوا میں گھومتا ہوں/rafiq sandeelvi

Verses

اسیر ِ خاک ہوں لیکن ہوا میں گھومتا ہوں
ستارے کی طرح دشت ِ خلا میں گھومتا ہوں

کسی دروازہء معلوم سے داخل ہوا تھا
اور اب اک قریہء حیرت سرا میں گھومتا ہوں

کھنچے جاتے ہیں قبرستان کی جانب مرے پاؤں
کہ میں اک حلقہءمرگ و فنا میں گھومتا ہوں

سکوت ِصد برس ہوں اور اک مجذوب آسا
کسی تہ خانہء صوت و صدا میں گھومتا ہوں

رفیق سندیلوی

سحر تک اُس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں/rafiq sandeelvi

Verses

سحر تک اُس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں
میں نقطہ ہائے گریہ پر اکٹھا ہو کے آتا ہوں

اُدھر رستے میں چوتھے کوس پر تالاب پڑتا ہے
میں خاک اور خون سے لتھڑی رکابیں دھو کے آتا ہوں

یہاں اک دشت میں فرعون کا اہرام بنتا ہے
میں اپنی پشت پر چوکور پتھر ڈھو کے آتا ہوں

ابھی کچھ بازیابی کا عمل معکوس لگتا ہے
میں جب بھی ڈھونڈنے جاتا ہوں خود کو کھو کے آتا ہوں

جہاں پرچھائیں تک پڑتی نہیں ہے خاک زادوں کی
اُسی خالی کُرے پر سات موسم سو کے آتا ہوں
رفیق سندیلوی

طلوع ِ ماہ ِ مناجات سے نَفَس چمکے/rafiq sandeelvi

Verses

طلوع ِ ماہ ِ مناجات سے نَفَس چمکے
اندھیری شب میں مرے جسم کا کلس چمکے

چھٹیںفضاؤں سے نا ممکنات کے بادل
کوئی ستارہء امکان اِس برس چمکے

اب انتظار کا اک پل بھی ہے گراں مجھکو
جسے چمکنا ہے اِس آسماں پہ بس چکمے

اچانک ایک شعاع ِ سفر ہویدا ہو
سوار زین کَسے ، دیدہء فرس چمکے

رفیق سندیلوی

کس باغ تمنا میں نہاں ہے ترا مسکن/rafiq sandeelvi

Verses

کس باغ تمنا میں نہاں ہے ترا مسکن
اے راحت صد رنگ کہاں ہے ترا مسکن

کچھ علم نہیں ہے مجھے اے خواب کے طائر
وہ شاخ ہے کس سمت جہاں ہے ترا مسکن

اے گمشدہ ساعت میں تجھے کس جگہ ڈھونڈوں
یہ گرد ہے یا آب رواں ہے ترا مسکن
رفیق سندیلوی

Khawab dekhny waly

Verses

Nazm.....

Khawab Dekhny waly

Khawab Dekh baithy hain

Ab ....Aye mery YUSUF kuch

Imtehan......Tera Bhi?????