جو کلید ِ قفل ِ نجات ہے وہی شے عطا نہیں ہو رہی/rafiq sandeelvi

Verses

جو کلید ِ قفل ِ نجات ہے وہی شے عطا نہیں ہو رہی
کسی ڈھنگ سے کسی کام کی کوئی ابتدا نہیں ہو رہی

مرے پاؤں سینکڑوں سال تک رہے جادہ گیر اِدھر اُدھر
مگر ایک چپہ زمین بھی مری آشنا نہیں ہو رہی

کہیں ایک نقطے پہ رک گیا ہے نظام ِ کون و مکان بھی
کوئی شے جنم نہیں لے رہی کوئی شے فنا نہیں ہو رہی

رفیق سندیلوی

سیاہ رات ہو ،ہر شے کو نیند آئی ہو/rafiq sandeelvi

Verses

سیاہ رات ہو ،ہر شے کو نیند آئی ہو
مرے وجود کی تقریب ِ رونمائی ہو

رکھا گیا ہو ہر اک خواب کو قرینے سے
زمین ِ حجلہء ادراک کی صفائی ہو

اس اعتکاف ِ تمنا کی سرد رات کے بعد
میں جل مروں جو کبھی آگ تک جلائی ہو

کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے ،ساعت ِ موجود
مجھے قدیم زمانے میں کھینچ لائی ہو

نکل پڑوں میں کوئی مشعل ِ فسوں لے کر
قیام گاہ ِ ابد تک مری رسائی ہو

میں اُس کے وار کو سانسوں کی ڈھال پر روکوں
سوار ِ مرگ سے گھمسان کی لڑائی ہو

رفیق سندیلوی

دل کے زیریں طبقے میں تاریکی تھی/rafiq sandeelvi

Verses

دل کے زیریں طبقے میں تاریکی تھی
سب سے روشن تارے میں تاریکی تھی

شب کی تھیلی بھری ہوئی تھی کرنوں سے
دل کے خالی بستے میں تاریکی تھی

جس میں چھپ کر مَیں صدیوں سے بیٹھا تھا
اس کہسار کے درے میں تاریکی تھی

جسم و خلا میں سانس اور تارے غائب تھے
شام اور موت کے سائے میں تاریکی تھی

سبز شعاعیں پھوٹ رہی تھیں ٹاپوں سے
اور سوار کے رستے میں تاریکی تھی

تیر رہا تھا سورج خواب کے پانی میں
آنکھ کے آخری حصے میں تاریکی تھی
رفیق سندیلوی

بدن کے خاکداں میں اور کیا رکھا ہوا ہے/rafiq sandeelvi

Verses

بدن کے خاکداں میں اور کیا رکھا ہوا ہے
اندھیری رات کا اندوختہ رکھا ہوا ہے

کسی دن عنصر ِ خاکی سے نکلوں گا دبے پاؤں
کہ میں نے بھی ارادہ موت کا رکھا ہوا ہے

بجھا ہے جسم لیکن جسم کی محراب اندر
جلا کر اک چراغ ِ لامسہ رکھا ہوا ہے

زمین ِ خواب ہوں اور میں نے اپنے آئینے میں
نہیں معلوم کس کا عکس ِ پا رکھا ہوا ہے

ستارہ رات کا ہوں اور مَیں نے گھومنے کو
خلا میں کھینچ کر اک دائرہ رکھا ہوا ہے

رفیق سندیلوی

آسمانی دائروں، مخروط ٹیلوں میں کہیں/rafiq sandeelvi

Verses

آسمانی دائروں، مخروط ٹیلوں میں کہیں
بٹ گیا ہوں میں فضا کے چار طبقوں میں کہیں

ڈولتی پھرتی ہے میری کشتیء یک دو نَفَس
عمر کے دریا ؤں کی شہ زور موجوں میں کہیں

پارہ پارہ ہو گیا میرے جسد کا آئینہ
کائنات ِ شش جہت میں چار کھونٹوں میں کہیں

ڈھونڈتا ہے کوئی مجھکو چاند کی مشعل لئے
میں چھپا ہوں رات کے بے نور پردوں میں کہیں

بیضوی شکلوں میں پھرتے ہیں بگولے میرے گِرد
اور میں تنہا کھڑا ہوں سرد خطوں میں میں کہیں

رفیق سندیلوی

جو آسماں پر شہاب ِ ثاقب ابھر رہا ہے مرے لئے ہے/rafiq sandeelvi

Verses

جو آسماں پر شہاب ِ ثاقب ابھر رہا ہے مرے لئے ہے
چراغ جو خاکداں کے پانی میں مر رہا ہے مرے لئے ہے

وہ میرا جگنو تھا جو زمیں کے ستون ِ آخر سے منسلک تھا
فصیل ِ اول سے جو شرارہ گزر رہا ہے مرے لئے ہے

بھری ہے سورج نے جست میرے لئے خلاؤں کی وسعتوں میں
جو چاند دیوار ِ کہکشاں سے اُتر رہا ہے مرے لئے ہے

مرے لئے ہی دھرا ہے دن کی مسافرت پر تھکن کا قطرہ
قیام ِ شب میں جو بحر ِ ہمت بپھر رہا ہے مرے لئے ہے

ہوا کی بالائی تہ کا نیلا سکوت ہے میرے واسطے ہی
جو رعد بن کر زمیں کی چھت پر اتر رہا ہے مرے لئے ہے
رفیق سندیلوی

آشنائے لمس ِ عزرائیل ہو جائیں گے ہم/rafiq sandeelvi

Verses

آشنائے لمس ِ عزرائیل ہو جائیں گے ہم
غیر مرئی شکل میں تبدیل ہو جائیں گے ہم

پیچھے ہٹتا جائے گا آواز کا بحر ِ نشور
گونگے بہرے پانیوں کی جھیل ہو جائیں گے ہم

جائیں گے ہم خال و خد سے اک ہیولے کی طرف
پھر ہوا کے جسم میں تحلیل ہو جائیں گے ہم

جب رہائی پائیں گے خاکستری اشکال سے
رفتہ رفتہ روئے آب ِ نیل ہو جائیں گے ہم

ختم ہو جائے گا پھر ابلاغ کا سارا فسوں
جب سما عت گاہ تک ترسیل ہو جائیں گے ہم

رفیق سندیلوی

افق اور آنکھ کے مابین سورج ٹانک دوں گا/rafiq sandeelvi

Verses

افق اور آنکھ کے مابین سورج ٹانک دوں گا
میں کہرے میں بھی اس کے خال و خد پہچان لوں گا

ستارے، کشتیاں اور اونٹ میرے ساتھ ہوں گے
میں راتوں رات دریا کے کنارے جا لگوں گا

خمیر ِ آب و آتش ہوگا میری دسترس میں
بگولے گوندھ لوں گا،سُرمئی بادل بُنوں گا

مرے چوگرد ہو گا شام کے سایوں کا منظر
افق کی روشنی کا سرخ چہرہ چوم لوں گا

رفیق سندیلوی