جسم کے تاریک لشکر سے بچائے گا مجھے/rafiq sandeelvi

Verses

جسم کے تاریک لشکر سے بچائے گا مجھے
اک ستارہ رات کے شر سے بچائے گا مجھے

میرے پہرے پر مقرر ہوگا باہر سے بدن
اور مرا یہ نفس اندر سے بچائے گا مجھے

مجھ کو صحرا سے بچائے گی اسی صحرا کی ریت
اور یہی پانی سمندر سے بچائے گا مجھے

موت جس ساعت مجھے آنی ہوئی آ جائے گی
کون زہر آلود خنجر سے بچائے گا مجھے

یہ پناہ ِ بام و در بزدل کرے گی اور بھی
اک کھلا میدان ہی ڈر سے بچائے گا مجھے

رفیق سندیلوی

کمر سے بوجھ قبرستان کا اُترے کسی دن/rafiq sandeelvi

Verses

کمر سے بوجھ قبرستان کا اُترے کسی دن
کہ اب چھلکا مری پہچان کا اُترے کسی دن

کبھی اترا نہیں جو مسندِ آبِ رواں سے
زمیں پر پاؤں اس انسان کا اُترے کسی دن

کبھی دروازہء مرگِ بدن سے میں بھی گزروں
مرے سر سے بھی صدقہ جان کا اُترے کسی دن

کسی دن جفت ساعت میں دُعا کا ہاتھ تھامے
ہیولا سا مرے مہمان کا اُترے کسی دن

نکل آئے کبھی پھر بیچ میں سے خاک چہرہ
بنفشی رنگ میرے دھیان کا اُترے کسی دن

کبھی میں جذب کے عالم میں ہو جاؤں برہنہ
لبادہ پھر مرے وجدان کا اُترے کسی دن

رفیق سندیلوی

ایک سیاہ بشارت والے ڈر کے ساتھ گزاری/rafiq sandeelvi

Verses

ایک سیاہ بشارت والے ڈر کے ساتھ گزاری
میں نے پہاڑ کے اک درے میں ساری رات گزاری

پہلے آنکھ کی شہ رگ کاٹی اور اس فعل کے پیچھے
اک تاریک سرنگ سے میں نے اپنی ذات گزاری

اس برکھا میں بھورے رنگ کی مٹی نے آ گھیرا
سرخ غبار کے چو رستے میں یہ برسات گزاری

رفیق سندیلوی

میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا
مرا ستارہ زمیں کے نقطے پہ آ گیا تھا

لکھی تھی پانی کی موت میری۔اسی لئے تو
جہاز سے میں نکل کے عرشے پہ آ گیا تھا

بدل رہا تھا نظام ِ شمسی مدار ِ جاں میں
لہو کا خورشید ڈیڑھ نیزے پہ آ گیا تھا

مجھے ٹھکانہ نہیں ملا تھا کسی طبق پر
میں تھک کے خاکی بدن کے ٹیلے پہ آ گیا تھا

مری صدا گھوم کر عطارد پہ آ گئی تھی
اُبھر کے وہ بھی زحل کے پردے پہ آ گیا تھا

جمے ہوئے تھے مرے قدم آسماں کے سر پر
زمیں کا بوجھ میرے کندھے پہ آ گیا تھا
رفیق سندیلوی

عجیب خطہء تعبیر خواب کو دوں گا/rafiq sandeelvi

Verses

عجیب خطہء تعبیر خواب کو دوں گا
میں ایک خاک کی جاگیر خواب کو دوں گا

میں کاٹ دوں گا اندھیرے میں اُس شبیہ کا ہاتھ
کسی طلسم کی شمشیر خواب کو دوں گا

رکھوں گا ایک طلائی ستارے کی بنیاد
اور ایک وعدہء تعمیر خواب کو دوں گا

بدن سے پھوٹے گی لذت ،مٹھاس اورخوشبو
شراب و عورت و انجیر خواب کو دوں گا

میں جیت لوں گا کسی رات چاند کا میدان
اور ایک جراءت تسخیر خواب کو دوں گا

رفیق سندیلوی

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Verses

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Chly aao k dunia sy ja rha hy koi

Koi azal sy khe do k ruk jay do ghadi

Suna hy k any ka wada nibha rha hy koi

Wo ess naz sy bethy hain lassh k pass

Jaesy rothy huy ko mna rha hy koi

Plt kr na aa jay phr sans nbzon main

Itny haseen hathon sy mayet sja rha hy koi

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Verses

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Chly aao k dunia sy ja rha hy koi

Koi azal sy khe do k ruk jay do ghadi

Suna hy k any ka wada nibha rha hy koi

Wo ess naz sy bethy hain lassh k pass

Jaesy rothy huy ko mna rha hy koi

Plt kr na aa jay phr sans nbzon main

Itny haseen hathon sy mayet sja rha hy koi

کسی آزمائش و امتحاں میں پڑا رہا/rafiq sandeelvi

Verses

کسی آزمائش و امتحاں میں پڑا رہا
میں سیاہیء شب ِ خاکداں میں پڑا رہا

میں کہ علم ِ غیب نہ جانتا تھا مگر یہ دل
کسی آب ِ کشف ِ رواں دواں میں پڑا رہا

کوئی سالمہ تھا جنون کا مرا خواب بھی
سو اسی لئے مری چشم ِ جاں میں پڑا رہا

مری شش جہات میں کوئی آخری حد نہ تھی
میں وسیع تھا، سر ِ لا مکاں میں پڑا رہا

رفیق سندیلوی