ہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکمل

Verses

***غزل***
(عتیق الرّحمٰن صفی)

ہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکمل
دے ساتھ کسی کا مرا دل توڑ مکمل

ہے ساتھ نبھانا تو مرا ساتھ دے ایسے
دل اپنامرے قلب سے دے جوڑمکمل

افسانے کے کردار تو سب ہی ہیں پرانے
دے اپنی کہانی کو نیا موڑمکمل

کافی نہیں چلنا ہی فقط جانبِ منزل
کچھ پانا اگر ہے تو یہاں "دوڑ" مکمل

آؤ سبھی ہم مل کے کریں امن کی خاطر
اک آخری کوشش جو ہو سر توڑمکمل

اُس طرز ِ تخاطب نے ترے آخری خط میں
تا روح دیا ہے مجھے جھنجھوڑ مکمل

آپھر سے کریں ملنے کی ایسی کوئی کاوش
جو ٹوٹتے بندھن کو بھی دے جوڑ مکمل

اِس بار نہ آئے گا صفیؔ دام میں تیرے
تو خود کو جلا ڈال کہ سر پھوڑ مکمل

***************************

Kisi ghar men koi pathar gira tha

Verses

Kisi ghar men koi pathar gira tha
Magr nazla faqat mujh pr gira tha

Main aksar jhankta tha panio men
Mery hi aks pr kanker gira tha

Sada aati bhi ger tou koun sunta?
Keh sheesha toot kr andar gira tha

Mery paon men lerzish tak no aayi
Usi k hath sy khanjer gira tha

Ana men dabb Gaye sub khawab mery
Buton k ser pe khud mander gira tha

Sambhalny ki bhi himat thi na us men
Wo kaisy Morr pr aa kr gira tha

SALEEM un ghation sy kaisy bachta
Jahan pe rasta katt kr gira tha

اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں

Verses

اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں
دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں

ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی
گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں

دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا
گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں

رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا
گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں

شائبہ تک نہیں شرارت کا
کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں

اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟
روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں

اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں
وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں

ایک بت کا سوال ہے مولا!
من کا مندر سجائے بیٹھے ہیں

اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں
ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں

دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟
ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں

جب پوَ پھٹی

Verses

جب پوَ پھٹی

ابھی کچھ دیر تھی پوَ پھوٹنے میں
گرم بستر چھوڑ کر
جب گھر کی چوکھٹ پار کی میں نے
تو سارا شہر سویا تھا
کہ جیسے اک کویا تھا
جس کی تہ میں ہست وبو کا ریشم
سیاہی کے عجب اسرار میں لپٹا ہوا تھا
اک قدیمی دشت کی مہکار میں لپٹا ہوا تھا
ایسے لگتا یھا
کہ جیسے راستوں،
کھیتوں،مکانوں اور درختوں پر
فُسوں پھونکا گیا ہو
وقت جیسے
اک خُمارِرَفت میں ڈوبا ہوا ہو
شش جِہَت پر رنگ اِستمرار کا پھیلا ہُوا ہو
لا مَکاں کی کُہنگی میں
دُھند کی لَب بستگی میں
خَلق اَپنی خواب گاہوں میں
دبک کر سو رہی تھی
ٓٓآسماں پر
چاند کی ضَو ماند پڑتی جا رہی تھی
ایک سناٹے کا عالَم تھا
چراغوں کی لَویں بجھنے کہ تھیں

اِمکانِ باراں تھا
گلی کے عَین اُوپر ابَر کے ٹکڑے
فضا میں تیرتے تھے
میں زَمستانی ہوَا میں کپکپاتا
بار بار اپنے سیہ کمبل کے گِرتے پلوؤں کو
پُشت و سینہ پر جماتا
پُر سُکوں اَنداز میں خوابیدہ
بچوں کے ہیوُلے

اشک بار آنکھوں کے پَردوں سے ہٹاتا
لَب ہی لَب میں بَڑبَڑاتا
ساحِل دریا پہ پُہنچا
ناؤ میں بیٹھا!
ابھی کچھ دیر تھی پَو پُھوٹنے میں
دوسرے ساحِل پہ جانے کی کشش نے
موج کے ریلے نے
میری ناؤ کو آگے بڑھایا
صبح کا تارا اَچانک جھِلملایا
ناؤ،پانی،بادباں،چپو،اندھیرا
اور غُنُودہ جسم میرا
سب عناصِرایک عُنصرمیں ڈھلے
دل میں کچھ پُرانی یاد کے پھُول
شاخوں پر کِھلے
پھر پَو پھٹی
پھر دوپہَر کی دُھوپ پھیلی
سہ پہَر کے سایے رینگے
شام دھل آئی
اَندھیرا چھا گیا
اور سینکڑوں راتوں کے
اِک لمبے سفر کے بعد
ساحِل آگیا!

جب اگلے دن کی پَو پھٹی
گھر میں صفِ ماتم بچھی

عجب پاگل سی لڑکی ہے

Verses

عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟
میری باتیں ستاتی ہیں
مری نیندیں جگاتی ہیں
مری آنکھیں رُلاتی ہیں
دسمبر کی سنہری دھوپ میں اب بھی ٹہلتے ہو
کسی خاموش رستے سے کوئی آواز آتی ہے؟
ٹھٹھرتی سرد راتوں میں تم اب بھی چھت پہ جاتے ہو
فلک کے سب ستاروں کو میری باتیں سناتے ہو
کتابوں سے تمھارے عشق میں کوئی کمی آئی؟
یا میری یاد کی شدّت سے آنکھوں میں نمی آئی؟
عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے

جواباَ اس کو لکھتا ہوں
میری مصروفیت دیکھو
صبح سے شام آفس میں چراغِ عمر جلتا ہے
پھر اس کے بعد دُنیا کی کئی مجبوریاں پاؤں میں بیڑی ڈال رکھتی ہیں
مجھے بےفکر، چاہت سے بھرے سسپنے نہیں دِکھتے
ٹہلنے، جاگنے، سونے کی فرصت ہی نہیں ملتی
ستاروں سے ملے عرصہ ہوا ناراض ہوں شاید
کتابوں سے شغف میرا ابھی ویسے ہی قائم ہے
فرق اتنا پڑا ہے اب انہیں عرصہ میں پڑھتا ہوں
تمھیں کس نے کہا پگلی تمھیں میں یاد کرتا ہوں؟
کہ میں خود کو بھلانے کی مسلسل جستجو میں ہوں
تمھیں نہ یاد آنے کی مسلسل جستجو میں ہوں
مگر یہ جستجو میری بہت ناکام رہتی ہے
مرے دن رات میں اب بھی تمھاری شام رہتی ہے
مرے لفظوں کی ہر مالا تمھارے نام رہتی ہے

تمھیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو؟
پُرانی بات ہے جو لوگ اکثر گنگناتے ہیں
انہیں ہم یاد کرتے ہیں جنھیں ہم بھول جاتے ہیں
عجب پاگل سی لڑکی ہو
مری مصروفیت دیکھو
تمھیں دل سے بھلاؤں تو تمھاری یاد آئے نا!
تمھیں دل سے بھلانے کی مجھے فرصت نہیں ملتی
اور اس مصروف جیون میں
تمھارے خط کا اِک جملہ
" تمھیں میں یاد آتی ہوں "
مری چاہت کی شدت میں کمی ہونے نہیں دیتا
بہت راتیں جگاتا ہے مجھے سونے نہیں دیتا
سو اگلی بار اپنے خط میں یہ جملہ نہیں لکھنا!
عجب پاگل سی لڑکی ہے، مجھے پھر بھی یہ لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟

کبھی دیکھو میرے ہمدم میری تحریر کے آنسو

Verses

سنا ہوگا بہت تم نے
کہیں آنکھوں کی رم جھم کا
کہیں پلکوں کی شبنم کا
کہیں لہجے کی بارش کا
کہیں ساغر کی آنسو کا
مگر تم نے ۔۔
میرے ہمدم ۔۔
کہیں دیکھا ؟
کہیں پرکھا ؟
کسی تحریر کے آنسو ؟
مجھے تیری جُدائی نے
یہی معراج بخشی ہے
کہ میں جو لفظ لکھتا ہوں
وہ سارے لفظ روتے ہیں
کہ میں جو حرف بُنتا ہوں
وہ سارے بَین کرتے ہیں
میرے سنگ اس جُدائی میں
میرے الفاظ مرتے ہیں
میری تحریر کی لیکن ۔۔
کبھی کوئی نہیں سُنتا
میرے الفاظ کی سسکی
فلک بھی جو ہلا ڈالے
میرے لفظوں میں ہیں شامل
اُسی تاثیر کے آنسو !
کبھی دیکھو میرے ہمدم

میری تحریر کے آنسو ۔۔ !!

تمہارے پاس سے میں اُٹھ کے آگیا ہوں مگر

Verses

تمہارے پاس سے میں
اُٹھ کے آگیا ہوں مگر
ہر ایک شئے اُسی کمرے میں
چھوڑ آیا ہوں
وہ مُشک بار سی سانسیں
وہ دھیمی دھیمی مہک
وہ خوشگوار سی حدت
ہر ایک شئے
اُسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ میرے چہرے کو تکتی ہوئی
غزل آنکھیں
وہ جُھک کے اُٹھتی ہوئی
دلنواز پلکیں
وہ بےقرار نگاہیں
وہ سوگوار نظر
ہر ایک شئے
اُسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
میرے لبوں پہ وہ گبھرا کے
ہاتھ رکھ دینا
وہ ان کہی میں ہر اِک بات
مجھ سے کہہ دینا
تمہارے پاس سے میں
اُٹھ کے آگیا ہوں مگر
ہر ایک شئے اُسی کمرے میں
چھوڑ آیا ہوں
کتابیں فیض کی بکھری ہوئی
سرہانے پر
نفی میں ہلتا وہ سر
بے خودی میں شانے پر
ہر ایک منظرِ زیبا
ہر ایک ساعتِ خوش
ہر ایک شئے
اُسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ مہکتے ہوئے لب
وہ ڈبڈبائی نظر
وہ الوداعی تبسم سا
زرد چہرے پر
ٹھہر گیا ہے نگاہوں میں
آخری منظر
تمہارے پاس سے میں
اُٹھ کے آگیا ہوں مگر
ہر ایک شئے اُسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں

پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق

Verses

پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق

کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں
کبھی دل کے صفحے پر
تجھے تصویر کرتے ہیں
کبھی پلکوں کی چھاؤں میں
تجھے زنجیر کرتے ہیں
کبھی خوابیدہ شاموں میں
کبھی بارش کی راتوں میں
کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تیری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں

پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر

Verses

پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر
دکھ عبارت تو نہیں ہے،جو تجھے لکھ کر دے دیں۔
یہ کہانی بھی نہیں ہے کہ سنائیں تجھ کو
نہ کوئی بات ہی ایسی کہ بتائیں تجھ کو
زخم ہو تو تیرے ناخن کے حوالے کر دیں
آئینہ بھی تو نہیں ہے کہ دکھائیں تجھ کو
یہ کوئی راز نہیں جس کو چھپائیں تو وہ راز
کبھی چہرے کبھی آنکھوں سے چھلک جاتا ہے
جیسے آنچل کو سنبھالے کوئی اور تیز ہوا
جب بھی چلتی ہے تو شانوں سے ڈھلک جاتا ہے
اب تجھے کیسے بتائیں ہمیں کیا دکھ ہے

کتنے برس لگے یہ جاننے میں

Verses

کتنے برس لگے
یہ جاننے میں
کہ تیرا ہونا میرے لیے کیا ہے
ایسا ہونا بھی چاہئے تھا
شام ہوتے ہی
چاند میں روشنی نہیں آجاتی
رات ہوتے ہی
رات کی رانی مہک نہیں اُٹھتی
شام اور خوشبو کے بیچ
ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے
جس کا ہماری زمیں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اس آسمانی لمحے نے
اب ہمیں چھو لیا ہے