Mohsin Naqvi

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
محسن نقوی
Lubna's picture

اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو

اب یہ خواہش ہے کہ اپنا ہمسفر کوئی نہ ہو
جز شبِ تنہا، شریک رہگزر کوئی نہ ہو

رات کے پچھلے پہر کی خامشی کے خوف کو
اس سے پوچھو شہر بھر میں جس کا گھر کوئی نہ ہو

یا چراغ کم نفس کو صبح تک جلنا سکھا

Lubna's picture

کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی

کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
ورق ورق پہ بکھرتا گیا میرا چہرہ

سحر کے نور سے دھلتی ہوئی تیری آنکھیں
سفر کی گرد میں لپٹا ہوا میرا چہرہ

ہوا کا آخری بوسہ تھا یا قیامت تھی ؟

Guest Author's picture

کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں

Guest Author's picture

Achy Lagty Hain

Rasham Zulfoon, Nilam Ankhoon waly Achy Lagty Hain
Main Shair Hon Mujh ko ujly chahry Achy Lagty Hain
Tm Khud Socho, AAdhi Raat ko Thandy Chand Ki Cha'oon Main

Lubna's picture

ہماری انا کو قتل نہ کر

محبتوں میں ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں
ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر
کہ بے ضرر سہی محسن بے ضمیر ہم بھی نہیں

Lubna's picture

اور وہ شحص ٹوٹ گیا

مجھ سے بچھڑ کر لکھی اس نے دل کی بات
کیوں نہ ہوا اسے حوصلہ میرے سامنے
کل تک وہ آئینے سے بھی نازک تھا
محسن وہ شحص ٹوٹ گیا میرے سامنے

Lubna's picture

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسماں کا ہے
کہ ٹوٹ کر بھی مرا حوصلہ چٹان کا ہے

برا نہ مان مرے حرف زہر زہر سہی
میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے

ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دل کی ویرانی

Lubna's picture

جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا

جرم بھی تھا محسن بھی میرا لگتا تھا
دست-اے-قاتل بھی مجھے دست-اے-حنا لگتا تھا

ارے دیکھنے والے تو اسے دیکھتے رہ جاتے تھے
ہاں وہ شخص محبت کی صدا لگتا تھا

کانٹوں بھری شاخ نظر آتا تھا کبھی

Syndicate content