Ghazal

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ
http://en.wikipedia.org/wiki/Tanwir_Phool

Your rating: None Average: 2.8 (4 votes)
Guest Author's picture

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

Your rating: None Average: 4 (2 votes)
Guest Author's picture

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

No votes yet
Guest Author's picture

Avval To Dil O Jaan Va Aakhir Jigar Gaya By Fassana

اول تو دل و جان و آخر جگر گیا
وہ ایک شخص لے کے میرا سارا زر گیا
*
فردا کی بات ہو کہ کوئ دی کا حادثہ
دل میں ہمارے درد کا خنجر اتر گیا
*
آءے وہ بے نقاب گلستان میں جوںہی
پہولوں کا رنگ انکو دیکھ کر نکھر گیا
*
پھرتا تھا تیرے کوچے میں ہر روز جو ساءل
ظالم! وہ تیرے جلوے کی حسرت میں مر گیا
*
پھرتے ہو ٹک اداس فسانہ جی کیا ہوا؟
وہ شوخیاں وہ جوشِ جوانی کدھر گیا؟

Naveed Ahmed Fassana

No votes yet
Guest Author's picture

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں.

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں
ذات کا فقیر میں کیا کرنے چلا ہوں

لہو کو اپنی مٹھیوں میں بھرنے چلا ہوں
گلاب کو اسیر جو میں کرنے چلا ہوں

بلبل کو عقابوں کی نظر کرنے چلا ہوں
مجنوں ہوں میں پتھروں سے لڑنے چلا ہوں

آنکھوں پہ جام کے الزام دھرنے چلا ہوں
ساقی شراب کو حرام کرنے چلا ہوں

محبت کے شہر میں قیام کرنے چلا ہوں
دامن میں رتجگوں کے خار بھرنے چلا ہوں

یادوں کی آر دل میں یار گڑنے چلا ہوں
عشق ہوں میں سوئے دار بڑھنے چلا ہوں

ہوں داغ جدائی کا کہاں دھلنے چلا ہوں
رنگریز سے بے سود کہاں بھڑنے چلا ہوں

رستے کی خاک ہوں فلک کو بڑھنے چلا ہوں
جوہڑ کا ہی سہی کنول تو بننے چلا ہوں

ظلمت کے اندھیروں کو زیر کرنے چلا ہوں
بن کے امید کا دیا میں جلنے چلا ہوں

خلق ہوں خالق کو اله کرنے چلا ہوں
پتھر ہوں تو پتھر کو خدا کرنے چلا ہوں

No votes yet
Guest Author's picture

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ -- شفیق خلش

غزل
شفیق خلش

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ
جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

ہو مثالوں میں نہ جو حُسنِ عجب بن جاؤ
کِس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ

آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش اِلحان
زندگی بھر کو مِری سازِ طرب بن جاؤ

رشک قسمت پہ مِری سارے زمانے کو رہے
ہمسفرتم جو لِئے اپنے یہ چھب بن جاؤ

میں نے چاہا تھا سرِصُبْحِ جوانی بھی یہی
تم ہی سانسوں کی مہک، دل کی طلب بن جاؤ

کچھ تو احساس چَھٹے دل سے اندھیروں کا مِرے
زیستِ تاریک کو اِک شمعِ شب بن جاؤ

دل میں رکھتا ہُوں محبّت کا خزانہ جاناں
چھوڑکرسارا جہاں میری ہی اب بن جاؤ

ذات قربت سے ہمیشہ ہی منوّر چاہوں
کب کہا اُس سے خلش رونقِ شب بن جاؤ

شفیق خلش

No votes yet
Guest Author's picture

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

ہم تم کو یوں آزمائيں گے کسی دن
بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

یوں تو آوارگی کا سفر جاری ہے
سوچا ہےگھر جائيں گے کسی دن

ہر قدم پر گناہ کرنے والے سن لیں
گھڑے پاپ کے بھر جائيں گے کسی دن

اگر ظالم تیری بے رخی جاری رہی
راہ میں تجھ سے بچھڑ جائيں گے کسی دن

گر دیکھنا ہے معجزہ محبت دنیا کو
سفینے ڈوبتے بھی ابھر جائيں گے کسی دن

عثمان کو آزمانے والے سن لیں اب
ہم ہر حد سے گزر جائيں گے کسی دن

No votes yet
Guest Author's picture

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

Your rating: None Average: 3.8 (4 votes)
Syndicate content