
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جاے
ہر جگہ میرے چمکنے سےاجالا ہو جاے
ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس راہ پہ چلانا مجھ کو
Lab pe aati hai dua ban kay tamana meri
Zindagi sham’a key surat ho Khudaya meri.
Dur dunya ka maray dam say andheera ho jaye!
Har jagah meray chamaknay say ujala ho jaye!
Ho maray dam say younhi meray watan key zeenat
Jis tarah phool say hoti hai chaman ki zenat.
Zindgi hoo maray parwanay key surat Ya Rab!
Ilm ki sham’a say ho mujko muhabat Ya Rub!
Ho mara kaam ghareeboon key himayat kerna
Dard mandoon say za’ieefoon say muhabbat karna.
Maray Allah! burai say bachana mujhko
Naik jo rah hoo us raah pay chalana mujh ko.
Lub pay aati hai dua baan key tamana mayri
Zindagee shama ki surat ho Khudaya meree.

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں
یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں
ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں
تمہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں
اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں
ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں
لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں
زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابش
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں
آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں
خود کو یوں محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں
کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

کوئی بھی دل میرے دل سے دل لگی نہ کرے
میرا وجود تو خود سے بھی دوستی نہ کرے
زمانے بھر سے الگ ہے تمہاری نازوادا
کوئی کرن تیرے جلوؤں کی ہمسری نہ کرے
تیرے نصیب کے آنسو بھی مجھ کو مل جائیں
خدا کبھی تیری آنکھوں کو شبنمی نہ کرے
رفیق سندیلوی

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاو کاوِ سخت جانیہاۓ تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوۓ شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدّعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موۓ آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار
صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا
{3,2}
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
{3,3}
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
{3,4}
لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
{3,5}
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
{3,6}
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

بیمار تشنہ لب تھا اکیلا مکان میں
رکھا ہوا تپائی پہ خالی گلاس تھا
توُ ہمسفر تھا اور تذبذب تھا آنکھ میں
ڈوبا نہیں تھا چاند مگر دل اداس تھا
رفیق سندیلوی