zahid.mahmood's picture

Lab Pe Aati Hai Dua Banke Tamanna Meri

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جاے
ہر جگہ میرے چمکنے سےاجالا ہو جاے

ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس راہ پہ چلانا مجھ کو

Lab pe aati hai dua ban kay tamana meri
Zindagi sham’a key surat ho Khudaya meri.

Dur dunya ka maray dam say andheera ho jaye!
Har jagah meray chamaknay say ujala ho jaye!

Ho maray dam say younhi meray watan key zeenat
Jis tarah phool say hoti hai chaman ki zenat.

Zindgi hoo maray parwanay key surat Ya Rab!
Ilm ki sham’a say ho mujko muhabat Ya Rub!

Ho mara kaam ghareeboon key himayat kerna
Dard mandoon say za’ieefoon say muhabbat karna.

Maray Allah! burai say bachana mujhko
Naik jo rah hoo us raah pay chalana mujh ko.

Lub pay aati hai dua baan key tamana mayri
Zindagee shama ki surat ho Khudaya meree.

Your rating: None Average: 4.2 (37 votes)
IN Khan's picture

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں

یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں

ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں

تمہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں

اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں

ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں

لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں

زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابش
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

Your rating: None Average: 4.1 (27 votes)
IN Khan's picture

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

Your rating: None Average: 4.3 (16 votes)
IN Khan's picture

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

Your rating: None Average: 4.6 (9 votes)
rashidsandeelvi's picture

کوئی بھی دل میرے دل سے دل لگی نہ کرے /rafiq sandeelvi

کوئی بھی دل میرے دل سے دل لگی نہ کرے
میرا وجود تو خود سے بھی دوستی نہ کرے

زمانے بھر سے الگ ہے تمہاری نازوادا
کوئی کرن تیرے جلوؤں کی ہمسری نہ کرے

تیرے نصیب کے آنسو بھی مجھ کو مل جائیں
خدا کبھی تیری آنکھوں کو شبنمی نہ کرے

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
rashidsandeelvi's picture

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا /mirza ghalib

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاو کاوِ سخت جانیہاۓ تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوۓ شیر کا

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدّعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
موۓ آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
rashidsandeelvi's picture

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار/mirza ghalib

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار
صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا
{3,2}
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
{3,3}
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
{3,4}
لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
{3,5}
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
{3,6}
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
rashidsandeelvi's picture

بیمار تشنہ لب تھا اکیلا مکان میں/ rafiq sandeelvi

بیمار تشنہ لب تھا اکیلا مکان میں
رکھا ہوا تپائی پہ خالی گلاس تھا
توُ ہمسفر تھا اور تذبذب تھا آنکھ میں
ڈوبا نہیں تھا چاند مگر دل اداس تھا
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (3 votes)
Syndicate content