zahid.mahmood's picture

Lab Pe Aati Hai Dua Banke Tamanna Meri

prayer lab pe aati hai dua by deeraf4444
[ vid eo:http://youtu.be/ffH5aS5d53U autoplay:0]

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جاے
ہر جگہ میرے چمکنے سےاجالا ہو جاے

ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس راہ پہ چلانا مجھ کو

Lab pe aati hai dua ban kay tamana meri
Zindagi sham’a key surat ho Khudaya meri.

Dur dunya ka maray dam say andheera ho jaye!
Har jagah meray chamaknay say ujala ho jaye!

Ho maray dam say younhi meray watan key zeenat
Jis tarah phool say hoti hai chaman ki zenat.

Zindgi hoo maray parwanay key surat Ya Rab!
Ilm ki sham’a say ho mujko muhabat Ya Rub!

Ho mara kaam ghareeboon key himayat kerna
Dard mandoon say za’ieefoon say muhabbat karna.

Maray Allah! burai say bachana mujhko
Naik jo rah hoo us raah pay chalana mujh ko.

Lub pay aati hai dua baan key tamana mayri
Zindagee shama ki surat ho Khudaya meree.

Your rating: None Average: 3.8 (227 votes)
IN Khan's picture

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں

یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں

ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں

تمہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں

اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں

ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں

لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں

زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابش
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

Your rating: None Average: 4 (65 votes)
IN Khan's picture

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

Your rating: None Average: 4.2 (43 votes)
IN Khan's picture

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

Your rating: None Average: 4.2 (39 votes)
Guest Author's picture

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

بھٹکا ہوا جنت میں مکیں ہوتا ہے

کیسے مانوں کہ ترے ساتھ تھا وہ آج
وہ تو ہر وقت مرے پاس یہیں ہوتا ہے

زمانے میں کوئی اس کا کلیہ ہی نہیں
بھا جائے جو دل کو وہ حسیں ہوتا ہے

مسکان بھی رہتی ہے سدا ہونٹوں پہ اور
ہر وقت ہی دکھ میرا قریں ہوتا ہے

بدلتے ہی خود مجھے آکر وہ ملے گا
دو جمع دو پانچ کہیں ہوتا ہے

اسی وقت ہی ہارا جو بلبل نے کہا یہ
گل دیکھ مرا خاک نشیں ہوتا ہے

حسن مٹی میں ملتا ہے سنا ہے یہ عمر
جانے اور کیا کیازیرِ زمیں ہوتا ہے

Your rating: None Average: 4.6 (9 votes)
Guest Author's picture

hum pathron ko mom banane k shouq mein, kia kia mohabbaton ka zian jhelte rahe,ye jante hue bhi k hum haar jaenge ek zid si hogayee thi jua khelte rahe

Your rating: None Average: 3.5 (8 votes)
Guest Author's picture

میرے ہاتھوں پہ مصائب نے چلا دی گولی/RAFIQ SANDEELVI

میرے ہاتھوں پہ مصائب نے چلا دی گولی
ورنہ اونچے تیری یادوں کے علم کرنے تھے
کاش کہ وقت مجھے تھوڑی سی مہلت دیتا
میں نے کچھ رنگ تری ذات میں ضم کرنے تھے

Your rating: None Average: 4.5 (32 votes)
Guest Author's picture

نہ بوجھ یوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ -- غزلِ شفیق خلش

غزلِ

شفیق خلش

نہ بوجھ یوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ
دُکھوں کوگوشوں میں اِس کے نہ تُو سنبھال کے رکھ

ہرایک شے پہ تو قدرت نہیں ہے انساں کو
شکستِ دل کوبصورت نہ اک وبال کے رکھ

گِراں ہیں رات کےآثار، ذہن دل کے لئے
سُہانے یاد کے لمحے ذرا نکال کے رکھ

میں جانتا ہوں نہیں دسترس میں وہ میری
ہَوا مہک سے نہ اُس کی یہ دل اُچھال کے رکھ

بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرتوں کے خَلِش
خیال وخواب اُسی حُسنِ بے مثال کے رکھ

شفیق خلش

Your rating: None Average: 3 (2 votes)
Syndicate content