اغراض و مقاصد
اس سائٹ کا مقصد اردو شاعری کے دلنشین فن پاروں کا خوبصورت گلدستہ تیار کرنا ھے۔
غزالی مشن
اگر اردو شاعری کسی ساحر کے جادو کا کرشمہ ھے تو اس جادوگر کی جان اردو غزل میں ھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ھمارے پہلے مشن کا نام غزالی مشن ھے۔ اس مشن کے تحت ھمیں 30 جون 2010 تک 11,111 (گیارہ ھزار ایک سو گیارہ) خوبصورت ترین غزلیات کا حاصل عاشقان ِ اردو کو پیش کرنا ھے۔
کام کرنے کا طریقہ کار
اگر آپ غزل کی ھیئت سے واقف ھے تو آپ اپنی غزلیں جمع کروانا شروع کر سکتے ھیں۔
کام کو معیاری بنانے کے لیے ھم نے پہلے ھی معروف شعراء کی فہرست تیار کر لی ھے۔
آپ کسی بھی شاعر کی غزل شامل کر سکتے ھیں۔
میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
گہرے زرد زمیں کی رنگت دھانی کرتا ہے
بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے
مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے
یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے
کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے
یہ دریا بھی بے موسم طغیانی کرتا ہے
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے
مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لئے
جہاں وحشت کرنا سیکھا تھا جہاں جاں سے گزرنا سیکھا تھا
مرے آہو مجھے بلاتے ہیں اسی دشت میں رم کرنے کے لئے
وہ جو اوّل عشق کی شدت تھی وہ تو مہر دونیم کی نذر ہوئی
اب پھر اک موسم آیا ہے مجھے مستحکم کرنے کے لئے
یہ سارے ادب آدابِ ہنر یوں ہی تو نہیں آ جاتے ہیں
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لئے
موت آئی اور دل کی دہلیز پہ بوسہ دے کر لوٹ گئی
مرے مہمان آئے بیٹھے تھے تازہ دم کرنے کے لئے
مرے مالک مجھ کو غنی کر دے کہ شکست کے بعد مِرا دشمن
مری تیغ کا طالب ہے مجھ سے مرے ہاتھ قلم کرنے کے لئے
سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے
خواب شبِ تاریک پہ غالب آتا ہے
ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے
دل کی تباہی کے چھوٹے سے قصے میں
ذکر ہزار اطراف و جوانب آتا ہے
مٹی پانی آگ ہوا سب اس کے رفیق
جس کو اصولِ فرقِ مراتب آتا ہے
دل روئے اور گریے کی توفیق نہ ہو
ایسا وقت بھی عارفؔ صاحب آتا ہے
ملے تو کیسے ملے منزل خزینہء خواب
کہاں دمشق مقدر کہاں مدینہء خواب
سیاہ خانہ خوف و ہراس میں اک شخص
سنا رہا ہے مسلسل حدیث زینہء خواب
یقیں کا ورد و وظیفہ نہ اسم اعظم عشق
تو پھر یہ کیسے کھلے گا طلسم سینہء خواب
جہاں جہاں کی بھی مٹی ہمیں پسند آئی
وہاں وہاں پہ امانت کیا دفینہء خواب
خروشِ گریہء بے اختیار ایسا کیا
تڑخ کے ٹوٹ گیا رات آبگینہء خواب
شکستِ خوابِ گزشتہ پہ نوحہ خوانی ہوئی
پھر اس کے بعد سجی محفلِ شبینہء خواب
میسر آئی ہے توقیقِ شعر خوش ہوں لیں
نہ پھر یہ سیل رواں ہے نہ یہ سفینہء خواب
انیسؔ و آتشؔ و اقبالؔ سے مسلسل ہے
یہ سادہ کاری، یہ صناعی نگینہء خواب
پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے
جو دلوں سے ہو کے گزر رہا ہے وہ راستہ بھی تو دیکھتے
یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی
کبھی راویانِ خبر زدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے
یہ گلو گرفتہ و بستہء رسنِ جفا، مرے ہم قلم
کبھی جابروں کے دلوں میں خوفِ مکالمہ بھی تو دیکھتے
یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ، یہ بھی کمال ہے
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے
جو ہوا کے رخ پہ کھلے ہوئے ہیں وہ بادباں تو نظر میں ہیں
وہ جو موجِ خوں سے الجھ رہا ہے وہ حوصلہ بھی تو دیکھتے
یہ جو آبِ ذر سے رقم ہوئی ہے یہ داستان بھی مستند
وہ جو خونِ دل سے لکھا گیا ہے وہ حاشیہ بھی تو دیکھتے
میں تو خاک تھا کسی چشم ناز میں آگیا ہوں تو مہر ہوں
مرے مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے
روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے
جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گمنامی
ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے
عجب نہیں کل اسی کی زبان کھنچی جائے
جو کہہ رہا ہے خموشی زباں سے اچھی ہے
بس ایک خوف کہیں دل یہ بات مان نہ جائے
یہ خاک غیر غمیں ہمیں آشیاں سے اچھی ہے
ہم ایسے گل زدگاں کو بہارِ یک ساعت
نگار خانہء عہد خزاں سے اچھی ہے
مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مِرے قاتلوں کو خبر کیجیے
زمین سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے
ستم کے بہت سے ہیں ردّعمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے
وہی ظُلم بارِدگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِدگر کیجیے
قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجیے
سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
خُدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریں
اُنھیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوں
اس احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں
ہمارے عہد کی تہذیب میں قبا ہی نہیں
اگر قبا ہو تو بندِ قبا کی بات کریں
ہر اِک دور کا مذہب نیا خدا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں
وَفا شعار کئی ہیں، کوئی حسیں بھی تو ہو
چلو پھر، آج اسی بے وفا کی بات کریں
صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
دُکھ کی دھوپ کے آگے سُکھ کا سایا ہے
ہم کو ان سَستی خوشیوں کا لوبھ نہ دو
ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے
جُھوٹ تو قاتل ٹھہرا اِس کا کیا رونا
سچ نے بھی انساں کا خُوں بہایا ہے
پیدائش کے دِن سے موت کی زَد میں ہیں
اِس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے
اوّل اوّل جِس دل نے برباد کیا
آخر آخر وہ دل ہی کام آیا ہے
اِتنے دن احسان کیا دیوانوں پر
جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے