خوش آمدید ۔ اس سائٹ کا مشن

محترم اراکین السلام علیکم
میری آرزو ھے کہ یہ پیام آپ کو بہترین حال میں ملے

اغراض و مقاصد
اس سائٹ کا مقصد اردو شاعری کے دلنشین فن پاروں کا خوبصورت گلدستہ تیار کرنا ھے۔

غزالی مشن
اگر اردو شاعری کسی ساحر کے جادو کا کرشمہ ھے تو اس جادوگر کی جان اردو غزل میں ھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ھمارے پہلے مشن کا نام غزالی مشن ھے۔ اس مشن کے تحت ھمیں 30 جون 2010 تک 11,111 (گیارہ ھزار ایک سو گیارہ) خوبصورت ترین غزلیات کا حاصل عاشقان ِ اردو کو پیش کرنا ھے۔

کام کرنے کا طریقہ کار
اگر آپ غزل کی ھیئت سے واقف ھے تو آپ اپنی غزلیں جمع کروانا شروع کر سکتے ھیں۔
کام کو معیاری بنانے کے لیے ھم نے پہلے ھی معروف شعراء کی فہرست تیار کر لی ھے۔
آپ کسی بھی شاعر کی غزل شامل کر سکتے ھیں۔

اپنی خاص دعا میں یاد رکھیے
اگر میں آپ کی کچھ بھی اور مدد کر سکوں تو ضرور حُکم کیجیے گا
بصد خلوص
ٹیم اردو

GORME ULFAT KI SAZA DATAIN HAIN TARE Y SHARE K LOGE

gorme -ulfat ki saza datain ,hain tare -share k loge .  muj ko sholo pe jalty hain tare share k loge kase ayon tary share me mom ka badan le kr ,labon se aag barsate hain tare share k loge.

Aik khoobsurat shair

آرزو کی ہی نہیں اس کو کبھی پانے کی
جس سے منسوب محبّت کو کئے رکھا ہے
یٰسین شاہی

بے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے

بے انت خیالات مجھے مار ہی دیں گے
یہ ہجر کے لمحات مجھے مار ہی دیں گے

حالات سے لڑتا ہوا مر جاؤں گا اک دن
تم دیکھنا حالات مجھے مار ہی دیں گے

احساس کی مسند پہ بیٹھا رکھتے ہیں دن بھر
پر دکھ تو کسی رات مجھے مار ہی دیں گے

ساون سے مماثل ہیں مری آنکھیں ترے بعد
یہ اشک یہ برسات مجھے مار ہی دیں گے

آنکھوں میں ابھر آتے ہیں ہر بات پہ آنسو
شاہی مرے جذبات مجھے مار ہی دیں گے
یٰسین شاہی

وقت ہر چیز کا امکان بدل سکتا ہے

وقت ہر چیز کا امکان بدل سکتا ہے
عین ممکن ہے ترا دھیان بدل سکتا ہے

زندگی میں ہے فقط تیری محبّت کی کمی
تو مری زیست کا عنوان بدل سکتا ہے

اب تری یاد تو اس دل سے نکلنے سے رہی
اپنی تقدیر کب انسان بدل سکتا ہے

ہم فقط وصل کے قائل تو نہیں چاہت میں
کب ہمیں ہجر کا طوفان بدل سکتا ہے

لے کے پھرتا ہے ترے غم کا حوالہ شاہی
تو جو چاہے تو یہ پہچان بدل سکتا ہے
یٰسین شاہی

ایک شعر

دریا کو مجھ سے کچھ اِس لیے بھی محبت ہے بہت واجد
کہ کنارے تلاش کرنا میری عادت نہیں ہے
شاعر: واجد عمران

سب بھول چکا ہوں

رسمِ وفا خلوص و مہر ، سب بھول چکا ہوں
غیروں کی عنایت اپنوں کا قہر، سب بھول چکا ہوں
اِتنا یاد ہے اِس میں شامل تھی اُس کی بھی مرضی
کس نے کیا تھا مجھے در بدر ، سب بھول چکا ہوں
کسی کی محبت نے مجھے بھی شاداب کیا تھا کبھی
وہ حسین دن رنگین شام و سحر، سب بھول چکا ہوں
اب تو خود سے بھی بات کرتے ہوئے جی ڈرتا ہے
ہوتی تھی کسی سے گفتگو آٹھوں پہر، سب بھول چکا ہوں
شاعر: واجد عمران

بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں

بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں
نرم جھونکے کبھی طوفان بھی ہو جاتے ہیں

ہم نے محبوب جو ﺑﺪﻻ تو تعجب کیسا
لوگ کافر سے مسلمان بھی ہو جاتے ہیں

یوں تو اک درد کا رشتہ ہے زمانے بھر سے
لوگ ﻛﭽﻬ زیست کا عنوان بھی ہو جاتے ہیں

شہر بھر کو میں محبّت تو سکھا دوں لیکن
خود تراشے ﮨﻭﮰ بھگوان بھی ہو جاتے ہیں

ہم تو پرکھوں کی روایت کو نبھانے کے لئے
حرمت عشق پہ قربان بھی ہو جاتے ہیں

حادثہ ہو یا کوئی معجزہ شاہی ﻛﭼﻬ ہو
راستے پیار کے آسان بھی ہو جاتے ہیں
شاعر : یاسین شاہی

سمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیں

سمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیں
جو ممکن ھو تو زخم ہجر کا مرھم چرالائیں

تمہارا ساﺘﻬ ہے تو ایک بس اپنا ہی جیوﻥ کیوں
جہاں والوں کی ساری عمر آؤ ہم چرالائیں

بہاروں کےچلےجانےخزاں آنےکا ڈر نہ ھو
کوئی ایسا محبّت کا نیا موسم چرالائیں

خبر ھو نیند کی پریوں نہ ہی خوابوں کی دیوی کو
تمھیں پلکوں کی ڈولی میں بٹھا کر ھم چرالائیں

ھمیں جذبات کے صحرا کو بھی سیراب کرنا ھے
کسی ٹوٹے ھوﺌﮯ انساں کی چشم نم چرالائیں

سدا کی مسکراہٹ ان کےہونٹوں پہ سجانے کو
چلو شاہی ذرا چپکے سے ان کےغم چرالائیں
شاعر : یاسین شاہی

اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو

اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
بس یہی بات آﻧﻜﮭ میںرﻜﻬ لو

زندگی تو سفر ہے صحرا کا
تھوڑی برسات آﻧﻜﮭ میںرﻜﻬ لو

دﻦ سے جاناں کبھی چھپا کے مجھے
صرف اک رات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو

میں ہوں محور تمہاری چاہت کا
تم مری ذات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو

جن سے خوابوں میں رنگ بھر جایئں
ایسے لمحات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو

شاہی ہم سے وفا پرستوں کی
کوئی تو بات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
شاعر : یاسین شاہی

Syndicate content